انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام: 1 قسط

نبوت کیاہے:

#سوال: الله تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت اور بھلائی کےلیے بہت سے نبی بھیجے۔ نبی کے معنی اور مفہوم بتادیجئے؟

#جواب: نبی کا لفظ نباء سےمشتق ہے جس کے معنی ہے خبر۔ تاہم عربی میں نبا ہر خبر کو نہیں کہا جاتاہے بلکہ یہ ایسی خبر ہے جس میں تین چیزیں ہوں۔ نباء یعنی خبر فائدے کی ہو۔ فائدہ بھی معمولی نہیں بہت بڑا ہو اور اس کی خبر کے سننے والے کو اطمینان قلب اور یقین کامل حاصل ہو۔ (المنجد، قاموس، المفردات)

#سوال: علامہ راغب اصفہانی نے نباء کی کیا تعریف بیان کی ہے؟

#جواب: ان کے بقول نباء اس خبر کو کہتےہیں جو بڑے فائدے کی ہو۔ اور اس سے علم یقین یا ایسا علم جس پر یقین غالب ہو حاصل ہو اور کسی خبر کو اس وقت تک نباء کہتےہیں جب تک اس میں مندرجہ بالا تین چیزیں شامل نہ ہو۔ (المفردات)

#سوال: مفسرین ومؤرخین نے نبی کی کیا تعریف کی ہے؟

#جواب: علامہ سید شریفؒ کے بقول,, نبی یا رسول وہ انسان ہے جسے الله تعالیٰ لوگوں کی طرف اپنا حکم دیکر بھیجے،،۔ ابن تیمیہؒ کے مطابق الذی نباء اللہ یعنی وہ ذات ہے جس کو حق تعالیٰ نے غیب کی خبریں دی ہوں اور اس کو نبی بنایاہو۔ اب جس کو الله تعالیٰ نے بنی بنایاہو اور اس کو غیب کی خبریں دی ہوں ضروری نہیں کہ وہ دوسروں کو بھی ان خبروں سے مطلع کرے۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ نے رسول بناکر بھیجا ہو۔ جس طرح الله کا رسول کسی غیر کا رسول نہیں ہوسکتا اور نہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کا حکم مان سکتاہے، اسی طرح اللہ کا نبی بھی غیراللہ کا نبی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کسی اور کی دی ہوئی خبروں کو قبول کرسکتا ہے۔ مجدد الف ثانیؒ فرماتےہیں،,, نبی وہ ذات ہے جو ہر وقت حق تعالیٰ طرف بھی متوجہ رہے اور خلق خدا پر بھی نظر رکھے۔ حق کی طرف توجہ کرنے سے خلق خدا کی طرف اس کی توجہ کم نہ ہو اور خلق خدا کا خیال حق کی لگن میں خلل انداز نہ ہو،،۔ (التعریفات، النبوات، مکتوبات)

#سوال: بتائیے نبی کی ضرورت کیوں پیش ائی؟

#جواب: جب مخلوق خدا راہ راست سے بھٹک جاتی ہے۔ الله کے دین واحکامات سے روگردانی کرتی ہے۔ اس میں جسمانی، روحانی اور اخلاقی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں تو الله تعالیٰ اپنے ان بندوں کی ہدایت کےلیے نبی یا رسول بھیجتے رہے۔ مفکرین، مفسرین اور علماء کے نزدیک انبیاء کرام علیہم السلام باطنی اور روحانی امراض کے طبیب حاذق ہیں۔ یہ بھی کہاگیاہے کہ کائنات خدا کے وجود اور اس کی بعض صفات کی گواہی دینےکے بعد انسان کو جس مقام پر چھوڑ دیتی ہے اس مقام سے آگے چلنے کےلیے یعنی خدا کی مرضی، اس کی ہدایت، اس کے قانون اور اس کی پسند وناپسند کو معلوم کرکے زندگی کو اس کے مطابق بنانے کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام مرہون منت ہوئے بغیر چارہ نہیں۔ (سیرۃ النبی، المنقد، اسلام کا تصور نبوت)

جاری قسط نمبر 2

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.