انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام: 2 قسط

نبوت کیاہے: (گزشتہ سے پیوستہ)

#سوال: الله تعالیٰ نے کبھی نبی بھیجے کبھی رسول۔ اور بعض کو تو یہ دونوں منصب دیے گئے۔ نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟

#جواب: علامہ ابن تیمیہؒ کہتےہیں۔,, جو الله تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو صرف امورغیب کی اطلاع دیتاہو، ان کو پند ونصائح کرتا ہو، اور الله تعالیٰ کی جانب سے اس کو وحی ہوتی ہو وہ نبی کہلاتا ہے، لیکن ان اوصاف کےساتھ ساتھ جو کفار اور نافرمان قوم کی تبلیغ پر بھی مامور کيا جائے تو وہ رسول ہوگا۔،، بعض حضرات کہتےہیں کہ نبی وہ ہوتاہے جو شریعت جدیدہ نہ لیکر آئے اور رسول وہ ہوتاہے جو شریعت جدیدہ لیکر آئے۔ رسول اور نبی کا فرق بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہےکہ رسول وہ ہے جو مخاطبین کو شریعت جدیدہ پہنچائے خواہ وہ شریعت اس رسول کے اعتبار سے جدیدہ ہو جیسے تورات وغیرہ یا سرف مرسل الیہم کے اعتبار سے جدیدہ ہو جیسے اسماعیل علیہ السلام کی شریعت کہ وہی شریعت ابراہیمیہ تھی۔ لیکن قوم جرہم کو اس کا علم حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی سے ہوا۔ اور خواہ وہ رسول نبی ہو یا نہ ہو۔ جیسے کہ ملائکہ، ان پر رسول کا اطلاق کیا گيا ہے اور وہ انبیاء علیہم السلام نہیں ہیں۔ یا انبیاء علیہم السلام کے فرستادے اصحاب جیسے سورہ یٰسین میں ہے: اذجاءھا المرسلون. اور نبی وہ ہے جو صاحب وہی ہو خواہ شریعت جدیدہ کی تبلیغ کرے یا شریعت قدیمہ کی۔ جیسے اکثر انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) بنی اسرائیل کہ وہ شریعت موسوی کی تبلیغ کرتےتھے۔،، نبی چونکہ الله کی طرف سے بڑی بڑی اور فائدے والی خبریں دیتاہے اس لیے وہ نبی ہے، اور نبی اس پیغام کو دنیا میں لاتاہے اس لئے وہ رسول بھی ہے۔ (النبوات، بیان القرآن، ترجمان السنہ)

#سوال: بتائیے نبی میں کن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے؟

#جواب: نبوت الله کی دین ہے اور نبی اللہ کا انتخاب ہوتےہیں۔ تاہم جسے نبوت ملتی ہے وہ پہلے بھی عبادت وریاضت کرتاہے لیکن نبوت ملنے کےبعد اور زیادہ عبادت میں مصروف ہوجاتاہے۔ اس ریاضت وعبادت کے ساتھ ساتھ نبی میں الله کی عطا کردہ اور خصوصیات بھی ہوتی ہیں تاکہ جسے بنی نوع انسان کی ہدایت کےلیے بھیجا جارہاہے وہ سب سے ممتاز ہوجائے مثلاﹰ حسن صورت، حسن سیرت، حسن عمل، معتدل مزاجی، حسن تربیت، پاکیزہ نسب، نیک فطرت، نشونما اور پرورش میں پاکیزگی، سنجیدگی اور متانت جیسی خوبیوں کا بھی حامل ہو۔ وہ دشمنوں کیساتھ حسن اخلاق سے پیش آتا ہے اور الله کے دوستوں کےساتھ تواضع اور نرم خوئی اختیار کرتا ہے۔ ان تمام صفات کےساتھ نبی مافوق البشر ہستی نہیں ہوتا۔ وہ ایک بشر ہوتا ہے اور عام انسانوں کی طرح پیدا ہوتا ہے۔ بچپن جوانی اور بڑھاپے کی منزلوں سے گزرتا ہے۔ کھاتا پیتا ہے، شادی کرتاہے، اس کے ہاں اولاد بھی ہوتی ہے۔ رنج وغم اور خوشی اور مسرت کے لمحات بھی اس پر آتےہیں۔ ان ظاہری صفات کےعلاوہ بعض انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کو خاص باطنی صفات بھی عطا ہوتی ہیں۔ وہ عالم بشر کی طرح کے بشر نہیں ہوتے۔ (عمدۃ القاری، کنزالعمال)

#سوال: امام رازی انبیاء کرام علیہم السلام کی پاکیزگی اور تقدس کےبارےمیں کیا فرمایاہے؟

#جواب: آپ کہتےہیں:,, خوب سمجھ لینا چاہئے کہ انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے نفوس قدسیہ عام انسانوں سے اپنی ماہیت ہی میں مختلف ہوتےہیں۔ ان نفوس میں فہم وفراست اور جسمانیات وشہوات سے ایک عجیب قسم کی برتری ہوتی ہے۔ جب ایک طرف روح کی پاکیزگی اور شرف کا یہ عالم ہو۔ دوسری طرف جسم بھی غایت درجہ پاک وصاف ہو تو لازمی طورپر ان کے قویٰ محرکہ اور مدرکہ بھی انتہا درجے کامل ہوں گے۔ کیونکہ جب فاعل اور قابل دونوں کامل ہوں تو پھر اس کے آثار قوت وشرف اور پاکیزگی میں کیوں نہ ہوں گے۔ (تفسیر کبیر، اسلام کا تصور نبوت)

جاری قسط نمبر 3

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.