انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام: 3 قسط

نبوت کیاہے: (گزشتہ سے پیوستہ)

#سوال: عارفین ومفسرین نے انبیاء کرام علیہم السلام کے مقام بارےمیں گفتگو کرنے سے کیوں منع فرمایاہے؟

#جواب: انبیاء علیہم السلام کی مافوق البشر بشریت کے پیش نظر عارفین اور بعض مفسرین نے انبیاء علیہم السلام کے مقام کے بارے میں گفتگو کرنے سے منع فرمایاہے۔ محی الدین ابن عربی کہتےہیں: رسول کے مقام کے بارے میں صرف رسول کو اور نبی کے بارے میں صرف نبی کو گفتگو کرنا چاہیئے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے مقام کا ہمیں ذوق اور آشنائی ہی نہیں تو ہم اس کے بارے میں گفتگو ہی کیا کرسکتے ہیں۔ (الیواقیت والجواہر۔ اسلام کا تصور نبوت)

#سوال: فلاسفہ اور حکماء نے نبوت سے کیا فیض پایا؟

#جواب: امام غزالیؒ کہتےہیں: فلاسفہ نے علم طب اور علم نجوم کو پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی کتابوں سے چرایا ہے۔ اور ادویات کے خواص جن کا ادراک عقل نہیں کرسکتی، انبیاء علیہم السلام کے صحیفوں اور ان پر نازل شدہ کتابوں سے لیے ہیں۔ (المنقد من الضلال)

#سوال: کشف، الہام اور وحی کے ذریعے انبیاء علیہم السلام کو خبريں دی جاتی ہیں۔ کشف کا مفہوم کیاہے؟

#جواب: یہ علم کے درجات ہیں۔ کشف کے لفظی معنی کھولنا ہیں۔ عربی میں اس کے معنی زائل کرنا اور دور کرنے کے بھی ہے اور قرآن مجید میں ان معنوں کے علاوه کشف پردہ اٹھانے کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اصطلاحی معنوں میں کشف سے مراد مادیت کے ظلماتی پردوں کو چاک کرکے مادی چیز کا روحانی عالم میں مشاہدہ ہوجانا۔ ایسا کبھی اصلی صورت میں ہوتاہے کبھی مثالی صورت میں۔ صوفیاء کی اصلاح میں اسے کشف الصدور بھی کہتےہیں جب وہ دوسرے کے قلوب میں چھپی ہوئی بات کو معلوم کرلیتے ہیں، کشف صرف انبیاء کرام علیہم السلام اور بزرگان دین کےساتھ مخصوص نہيں بلکہ بعض دفعہ کفار کو بھی کشف ہوجاتاہے۔ مثلاﹰ دجال کو بھی کشف ہوگا اور وہ کشف سے کئی باتیں معلوم کرلے گا۔ (القرآن، المفردات، النبوات)

#سوال: غیرمادی علم کی دوسری قسم الہام ہے لغت اور اصطلاح میں اس کے کیا معنی ہیں؟

#جواب: الہام کے معنی دل میں کسی بات کے ڈالنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں۔ اس سے مراد وہ علم ہے جو غوروفکر اور ترتیب مقدمات کے بغير دل میں ڈالا جاتاہے۔ امام راغب اصفہانی کے بقول یہ علم اللہ تعالیٰ یا ملاء اعلی کی طرف سے آتاہے اور بغیر کسی ظاہری اور مادی اسباب کے آتاہے۔ اس علم کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر اس علم کا ذکر ہے۔ مختلف اشیاء کے موجد دنیاکے سامنے نئی نئی ایجادات پیش کرتےہیں۔ انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) اور اولیاء کرامؒ دونوں کو الہام ہوتاہے۔ انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے الہام میں اور اولیاء کے الہام میں فرق ہے۔ حافظ نور پشتی کہتے ہیں کہ انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کا الہام قطعی اور یقینی ہوتاہے لیکن اولیاء کے مقام کو یہ مرتبہ حاصل نہیں۔ انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کیونکہ خود خطا سے پاک ہوتے ہیں اس لئے ان کا الہام بھی معصوم عن الخطا ہوتاہے۔ اولیاء کا الہام یقینی اور قطعی نہیں بلکہ ظنی ہوتا ہے اور اس میں غلطی کا امکان رہتاہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ لکھتے ہیں کہ وہ الہام جوکہ اولیاء کو ہوتا ہے وہ انوار نبوت سے ماخوذ اور اقتباس شدہ ہوتا ہے اور انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) ہی کی پیروی اور تابعداری کے فیوض و برکات کا نتیجہ ہوتاہے۔ (القرآن۔ المعمد مکتوبات۔ علوم القرآن)

جاری قسط نمبر 4

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.