بچوں کو نیکی کے کام پر کیسے لایا جائے؟ (خوبصورت کہانی)

میری بیٹی تقریباً چھ سات سال کی تھی، قرآن مجید حفظک کررہی تھی – جب اسکا سبق سورہ ملک پر پہنچا اور اسے زبانی یاد ھو گئی اچھی طرح،

تو میں نے اسے کہا بیٹا: اب یہ آپ روزانہ رات سونے سے پہلے پڑھا کرو- اور اسے فضائل سنائے سورہ ملک پڑھنے کے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” میرا دل چاہتا ہے کہ یہ سورہ ہر مومن کے دل میں ہو”

اور مزید یہ بھی کہ یہ سورہ عذاب ِقبر سے بچانے والی ھے –
وہ پڑھ کے سو گئ، پھر میں ہر رات سونے سے پہلے اسے یاد دلاتی، پوچھتی کہ آپ نے سورہ پڑھ لی…..؟
اس طرح وہ روزانہ اس کی عادی ھو گئی – لیکن پھر بھی میں کبھی کبھی پوچھتی رہتی تھی-
ایک دن ہم کہیں باہر گئے ہوئے تھے، واپسی میں دیر ھو گئی ، اسے نیند بہت آرہی تھی کہنے لگی، امی آج میں پڑھے بغیر سو جاتی ہوں بہت تھک گئی ہوں-
میں نے اسے بڑے پیار سے مخاطب کیا،، بیٹا، آج تو ویسے ہی دیر ھو گئی ہے.. فرشتے کب سے انتطار کر رہے ہوں گے “ایشاع تبارک الذي پڑھے تو ھم لکھیں،،،،،، ایشاع پڑھے تو ہم لکھیں،،،،،،،،
وہ ایک دم خوش ہو کر بیٹھ گئی، امی کیا سچ مچ فرشتے میرا انتطار کر رہے ہیں؟ میں نے اسے سمجھایا ہاں بیٹا جو نیک عمل ہم روزانہ باقاعدگی سے کرتے ہیں، فرشتے اسکا انتظار کرتے ہیں، آپ فرشتوں کو تکلیف نہ دیں اور پڑھ لیں –
وہ خوشی خوشی پڑھ کہ سو گئی –
پھر کچھ دن بعد کا واقعہ ھے ، ایک دن صبح اٹھ کر مجھ سے کہنے لگی،
امی رات مجھے بہت نیند آرہی تھی میں سورہ ملک پڑھے بغیر سونے لگی تو مجھے آپکی بات یاد آگئی کہ فرشتے انتظار کررہے ہوں گے – تو میں نے پہلے سورہ ملک پڑھی اور پھر سوئی – میں نے بے اختیار اسکی پیشانی کو چوم لیا، اسے شاباش دی- اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا – اسی طرح جب سورہ کہف پر پہنچی تو بھی میں اسے جمعہ کے دن یاد دلاتی، وہ کھیل رہی ھوتی تو میں کہتی کوئی بات نہیں بیٹا کھیلتے کھیلتے پڑھ لو، آپ کو تو یاد ھے نا،،،، وہ کھیلتی بھی رہتی اور پڑھتی بھی رہتی- کبھی بہت اہتمام سے بیٹھ کر تلاوت کرتی-
اب سب بچے تو حافط نہیں ھوتے تو مائیں مغرب یا عشاء کی نماز کے بعد ھی بچوں کو سورہ ملک دیکھ کر پڑھنے کا عادی بنائیں، اسی طرح جمعہ کے دن سورہ کہف اور دیگر صبح، شام کی دعائیں پڑھنے کی عادت بنائیں –
کہنے کا مقصد یہ ھے کہ ھم بچوں کو اچھی باتیں بتاتے ھیں، دعائیں وغیرہ سکھاتے ہیں،،،، مگر ان سے عمل کیسے کرایا جائے، یہ بات اہمیت رکھتی ھے –
ماں باپ بہت خوش ہو کر بتا رہے ہوتے ہیں ہمارے بچوں کو اتنی دعائیں ماشاء اللہ یاد ہیں – اور جب ان سے پوچھا جائے کہ بچے ان دعاؤں کو موقع پر پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں تو جواب اکثر نفی میں ہوتا ہے – نہیں جی بچے ہیں بس بھول جاتے ہیں،، ہاں ٹھیک ھے وہ بچے ہیں، بھول جاتے ہیں، مگر ہم نے تو انہیں یاد دلانا ھے،،،،
صبح سوکر اٹھیں تو سنت بتائیں کہ اسطرح اُٹھنا ھے یہ دعا پڑھنی ھے، کھانا کھاتے وقت کی سنتیں بتائیں، باہر جاتے وقت سنت طریقہ بتائیں، پانی پیتے وقت یاد دلائیں ، *رات سوتے وقت بچوں کو ضرور تھوڑا سا وقت دیں، ذرا محبت سے سر پر ھاتھ رکھیں، مسکرا کر دیکھیں، بوسہ لیں، ھاتھ چوم لیں، یقین کیجئے بچے اس عمل سے بیحد خوش ہوتے ہیں ،پر اعتماد ھوتے ہیں* اور سنت طریقے پر سونا سکھائیں – سیکھے ہوئے ہیں تو یاد دلائیں –
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے، اگر ھم بھی ایسا کرینگے تو اللہ تعالیٰ ہم سے بہت خوش ھونگے اور ہم سے بہت پیار کرینگے، اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہم سے محبت کرینگے –
یقین کیجیے بچے بہت خوش ہوتے ہیں جب انہیں بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کتنی محبت کرتے ہیں اور کتنے مہربان ہیں ہم پر- وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے قریب ہونا چاہتے ہیں …

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیکی کرنے اور دوسروں کو نیکی کیطرف دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.