نیک صالح بیوی ﷲ پاک کی بڑی نعمت ہے

آنحضرتﷺ کے دور کاواقعہ ہے کہ ایک صحابیؓ جو روزانہ محنت کر کے روزی حاصل کرتے اور اپنے گھر کی کفالت کرتے تھے، ایک دن وہ مزدوری کی تلاش میں گئے لیکن مزدوری نہیں ملی، پریشان ہو کر گھر لوٹے، گھر میں کھانے کےلیے کچھ نہیں تھا، چنانچہ میاں بیوی دونوں بھوکے پیٹ سو گئے، دوسرے دن پھر وہ معاش کی تلاش میں گئے، اس دن بھی مزدوری نہیں ملی، پریشان ہو کر آئے، اور پھر دو دن کے بھوکے میاں بیوی اسی طرح سو گئے۔

ان کی بیوی بڑی صبر کرنے والی تھی اس نے کوئی شکایت نہیں کی، نہ کوئی طعنہ دیا، بلکہ شوہر کی ہمت بندھائی کہ روزی ﷲ کے ہاتھ میں ہے، ﷲ چاہے گا تو ضرور ملے گی، ہوسکتا ہے ﷲ تعالیٰ ہمیں آزما رہا ہو، تیسرے دن شوہر جب مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکلنے لگے تو بیوی نے گھر کے دروازے تک آکر رخصت کیا، جیسا کہ سنت ہے کہ بیوی شوہر کو گھر کے دروازے تک آکر رخصت کرے۔ یہ صحابی روانہ ہونے والے تھے کہ بیوی نے آواز دی، یہ واپس آئے تو اس ﷲ کی بندی نے عجیب بات کہی، اس نے کہا کہ ہم دو دن سے فاقے سے ہیں، آپ دو نوں دن گئے، مزدوری تلاش کی لیکن ﷲ کی مرضی، مزدوری نہیں ملی، آج آپ پھر جا رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ آج پھر آپ کومزدوری نہ ملے تو مجھے یہ اطمینان تو ہے کہ آپ اپنی ذات کے لیے کبھی کوئی غلط قدم نہیں اٹھائیں گے، لیکن ہوسکتاہے کہ میری محبت میں مجبور ہو کر کوئی حرام لقمہ گھر لے کر آجائیں، توآپ کو ﷲ کی قسم ہے کہ آپ میری محبت میں ہرگز ایسا نہ کریں کہ کوئی حرام لقمہ گھر لے کر آ جائیں۔ ہم تیسرے دن بھی بھوکے پیٹ سوجائیں گے، لیکن حرام کا لقمہ نہیں کھائیں گے۔

آپ سوچئے!اس صحابیہ کا کیسا ایمان تھا اور ان کے کیسے جذبات و احساس تھے!

آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا ایک بازار کی طرح ہے، اوراس بازا ر کابہترین سامان نیک عورت ہے۔ یقینا خوش نصیب ہیں وہ افراد جن کی بیویاں نیک صالح ہوں، جو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں اپنے شوہروں کی مد د کرنے والی ہوں اور گناہ کے کاموں سے ان کو روکنے والی ہوں۔ مذکورہ بالا واقعہ اپنے اندر یہ پیغام رکھتا ہے کہ خواتین اگر چاہیں تو وہ اپنے شوہروں کی اصلاح اوران کے کاموں کی درستگی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آج ہمارے بہت سارےمسلمان بھائی جو بے روزگار ہوتے ہیں بعض مرتبہ وہ اپنی بیویوں کے طعن و تشنیع سے بچنے کے لیے حرام اور ناجائز کاروبار اختیار کر لیتے ہیں ،اگرہماری مائیں اور بہنیں مشکل حالات میں صبر و قناعت اختیار کریں اورشکوہ و شکایت کرنے کے بجائے اپنے شوہروں کی ہمت بندھائیں اور ان سے صاف صاف یہ کہہ دیں کہ ’’ہم فقروفاقہ تو کر سکتے ہیں لیکن حرام لقمہ اپنے اور اپنےبثچوں کے پیٹ میں نہیں اتار سکتے‘‘ تو عجب نہیں کہ ان کے شوہر غلط راہ پرچلنے سے رک جائیں۔

ملحوظ

⁦✍️⁩ (حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.