میری زندگی کو برباد کس نے کیا؟

شاہ زیب عام لڑکوں سے بہت مختلف تھا۔ گرل فرینڈ سے شادی نہیں کرنی اور جس سے شادی کرنی ہے اسے گرل فرینڈ نہیں بنانا۔ لڑکے عموماً یہ ہی سوچتے ہیں۔

شاہ زیب سے کالج ہی کے زمانے میں مجھے محبت ہو گئی تھی ۔۔۔۔ اس نے مجھ ہی کو گرل فرینڈ بنایا اور مجھ ہی سے شادی بھی کی ۔۔۔۔میں بھی شاہ زیب کی طرح براڈ مائینڈ ،روشن خیال اور لبرل تھی ۔۔۔۔۔دقیانیوسیت اور مولویوں سے مجھے اللہ واسطے بیر تھا ۔۔۔

ہم نے جو خواب دیکھے انہیں پانا اس زمانے میں مشکل ہی ناممکن بھی تھا اور آج تو شاید نا پید ہو چکے مگر شاہ زیب جتنا اچھا شادی سے پہلے تھا شادی کے بعد بھی اتنا اچھا ہی ثابت ہوا ۔۔۔۔۔وہ مجھے ہر جگہ گھمانے لے جاتا اپنے دوستوں سے بھی ملواتا ۔۔۔۔میں نے کہا نا ! ہم روشن خیال ، براڈ مائنڈ اور لبرل تھے ۔۔۔۔

میری زندگی کو برباد اسی روشن خیالی، براڈ مائنڈ اور لبرل سوچ نے کیا۔

یہ انہی دنوں کی بات ہے جب میں شاہ زیب کے نکاح میں آئی تھی ۔۔۔۔ہر رات شبِ براءت اور ہر دن یوم ِعید تھا ایک دن شاہ زیب مجھے اپنے باس سے ملوانے اپنے آفس لے گئے ۔۔۔گر چہ وہ مجھ سے میری شادی میں بھی مل چکے تھے ۔شاہ زیب کے باس مجھ سے بہت اچھے انداز میں ملے میری خوبصورتی اور میک اپ نے انہیں گھائل کر دیا تھا ۔۔۔۔آپ کی خوبصورتی سے کوئی شخص گھائل ہو کر آپ کے قدموں میں گر جائے ۔۔۔۔۔

شاہ زیب کے باس نے کہا :شاہ زیب! میری سیکریٹری کی پوسٹ تو خالی ہے میم اگر راضی ہو ں تو انہی کو رکھ لیا جائے ۔۔۔ لیکن میں نے معذرت کر لی ۔

شاہ زیب نے انہیں گھر آنے کی بھی دعوت دی بلکہ یوں کہیے کہ گھر پر کھانے کی دعوت دے ڈالی جو شاہ زیب کے باس نے بخوشی و رغبت قبول کر لی ۔

شاہ زیب کے باس جب گھر آئے تو ان کی نگاہوں میں موجود پیغام مجھے سمجھ آرہا تھا عورت کو اللہ تعالیٰ نے یہ کمال کی حس دی ہے وہ مرد کی خبیث نگاہوں کو با آسانی سمجھ لیتی ہے ۔۔۔۔

پھر رفتہ رفتہ انہوں نے مجھ سے مراسم بڑھانے کی کوشش کی ایک دن صاف صاف لفظوں میں کہا : شاہ زیب کی ترقی ،تنخواہ میں اضافہ ، گاڑی اور فلیٹ لینے میں اگر میں ان کی مدد کروں تو اگلے دن ہی یہ سب چیزیں شاہ زیب کے پاس ہوں گی ۔۔۔۔

لیکن یہ میں کیسے کر سکتی تھی ۔۔۔مجھے اس دن اس شخص ے بہت گھن آئی اور میں صاف انکار کرکے گھر آگئی ۔

ایک ہفتہ ساتھ خیریت کے گزرا اور اس کے بعد شاہ زیب کو غبن کے الزم میں آفس سے نہ صرف نکال دیا گیا بلکہ اس کی ایف آئی آر بھی کٹوا دی گئی ۔۔۔۔مقدمہ بازی آپ جانتے ہیں نا ! غریبوں کے بس کی بات کہاں ؟ آہستہ آہستہ زیور بکا چیزیں بکیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہو ا آخر میں باس نے پھر آفر کی اور شاہ زیب کی امی شاید ممتا سے مجبور تھیں کہنے لگیں اپنے شوہر کو بچانے کے لیے یہ قربانی دے دو ۔۔۔۔۔۔

میں سوچنے لگی کیا شوہروں کی ترقی کے دروازے قیمتِ عصمت پر کھلیں گے ؟

لبرل ازم کی اس غلاظت نے مجھے یہ کرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔۔شاہ زیب گھر آگئے لیکن شاید میں دربدر ہو گئی ۔۔۔۔باس کی فرمائشوں کا سلسلہ رکا نہیں بلکہ ان کے دوستوں تک طویل ہو گیا اور جب شاہ زیب کو یہ ساری خبر ہوئی تو شاہ زیب نے مجھے چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔قصور وار کون؟ ”شاہ زیب؟ میں؟ یا پھر باس؟“

آج جب بہت دنوں کے بعد قرآن کی تلاوت کی تو مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا – (الاحزاب 59)

”اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے“

میں نے اپنے رب کی بات کو ٹال دیا تھا میں ستائی گئی اور اس حد تک ستائی گئی کہ زندگی ایک روگ بن چکی ہے۔۔۔۔۔تم ایسا مت کرنا ،یہ پردہ تمہاری حفاظت کا ضامن ہے ۔۔۔۔جب حفاظت کی شیٹ یا جیکٹ آپ خود اتار کر پھینک دیں گی تو پھر زخم بھی لگے گا.

منقول

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.