انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام: 7 قسط

نبوت کیاہے: (گزشتہ سے پیوستہ)

#سوال: علماء ومفسرین نے معجزات کی کتنی قسمیں بیان کی ہیں؟

#جواب: علمائے اسلام نے معجزات دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک معنوی معجزات یعنی نبی کے وہ نمایا اوصاف اور ملکات جو حق تعالیٰ بغیر کسی کسب و اکتساب کے روزِ اول ہی سے اس میں ودیعت فرماتے ہیں۔ دوسرے حسی معجزات یہ الله تعالیٰ کے قدرت کے افعال وعجائبات ہیں جو انبیاء کرام (علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے ہاتھوں پر ان کے دعوائے نبوت کی تصدیق وتائید کےلیے ظاہر ہوتےہیں۔ اس طرح انبیاء کرام (علیہم الصلوٰۃ والسلام) نے جتنے بھی معجزات پیش کیے ان کو صرف دو قسموں میں تقسیم کیا جاتاہے۔ ایک اخبار باالغیب اور تصرف فی الکائنات۔ اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ معجزات عملی اور علمی ہوتےہیں۔ نبی کے ہاتھوں ایسے افعال کا ظاہر ہونا جسے بشری طاقت اور قدرت عاجز ہو عملی معجزہ سے اور نبی کی زبان سے خبروں اور پیش گوئیوں کا ظاہر ہونا جس سے انسانی ادراک اور بشری علم عاجز ہو نبی کا علمی معجزہ کہلائے گا۔(النبوات۔ احیاء العلوم)

#سوال: معجزہ نبوت کی دلیل ہے اور یہ نبی کا فعل نہیں بلکہ اللہ کا فعل ہوتاہے۔ بعض علماء ومفسرین اس بارےمیں کیا کہتےہیں؟

#جواب: علامہ ابن ہمام کہتےہیں,, معجزہ جب ایسی چیز ہے کہ مخلوق اس کے کرنے سے عاجز ہے تو معجزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہوگا۔،،

علامہ کمال الدین محمد بن ابی شریف کہتےہیں: بلاشبہ معجزہ صرف اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔،،

امام تورپشتی فرماتےہیں: انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے جو معجزات ہیں ان کو حق تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا۔،،

شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کہتےہیں:,, معجزہ نبی کا فعل نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کا فعل ہوتاہے جس کو نبی کے ہاتھ پر ظاہر کیا جاتاہے۔ بخلاف دیگر افعال کے کہ اس میں کسب بندہ کی طرف سے اور خلق الله کی طرف سے ہوتاہے مگر معجزہ میں کسب بھی بندہ کی طرف سے نہیں ہوتا۔،،

امام غزالی کہتےہیں:,, جب اس کے (معجزے کے) ظاہر کرنے سے تمام انسان عاجز ہیں تو وہ صرف الله کا فعل ہوگا۔،، قاضی ابوبکر الباقلانی اور علامہ ابن خلدون نے بھی یہی کہاہے۔ (المقدمہ۔ المساہرہ۔ المعتمد فی المعتمد۔ مدارج۔ النبوۃ۔ احیاء العلوم، اعجاز القرآن)

#سوال: کیا عورت نبی ہوسکتی ہے؟

#جواب: عورت کے نبی ہونے میں علماء ومفسرین کا اختلاف ہے۔ شیخ ابوالحسن اشعریؒ، امام قرطبیؒ، محمد بن اسحاقؒ اور علامہ ابن حزمؒ وغیرہ کا خیال ہےکہ عورت نبی ہوسکتی ہے۔ علامہ ابن حزمؒ اندلسی تو یہ بھی کہتےہیں سیدا حواؑ، سیدہ سارہؑ، سیدہ ہاجرہؑ، سیدہ ام موسیٰؑ، آسیہ اور سیدہ مریمؑ نبی تھیں۔ اس کے برعکس امام حسن بصریؒ، قاضی عیاضؒ، ابن تیمیہؒ، ملا علی قاریؒ اور ابن ہمام کے خیال میں عورت نبی نہیں ہوسکتی اس لیے سیدہ حواؑ، سیدہ سارہؑ اور سیدہ ہاجرہؑ اور سیدہ ام موسیٰؑ نبی نہیں تھیں۔ (تفسیر ابن کثیر۔ بحرالمحیط۔ فتح الباری۔ النبوات۔ ضوء المعالی۔ مساہرہ۔ تفسیر کبیر)

#سوال: انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کی حیات قبریہ کے بارےمیں علماء ومفسرین کی کیا رائے ہے؟

#جواب: جلال الدین سیوطیؒ کہتےہیں:,, نبی اکرم (ﷺ) اور دوسرے تمام انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) اپنی قبروں میں حیات ہیں۔،،

شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کہتےہیں:,, جمہور کا طےشدہ اور مختار قول یہی ہےکہ انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) موت کا مزہ چکھنے کے بعد دنیوی زندگی کےساتھ (قبر میں) متصف ہیں۔

علامہ تقی الدین سبکیؒ نے لکھاہے کہ انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کو دنیاکے حساب سے زندہ سمجھیں گے۔،، (حیاۃ الانبیاء۔ تیسیر الباری۔ شفاء السقام)

جاری قسط نمبر 8

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.