مولانا رومی رح کا ایک واقعہ

مولانا رومی رح فرماتے ہیں کہ ایک دانا و بینا شخص نے بطور تمثیل کہا کہ برصغیر کے علاقے میں ایک ایسا درخت ہے، جس کے سائے کا پهیلاؤ کئی کوس ہے… اس کی جڑ پاتال کی خبر لاتی ہے اور اونچائی آسمان تک پہنچتی ہے۔

اس سے مخلوق خدا فائدہ اٹهاتی رہتی ہے، اس کے پتوں کے متعلق لوگوں کا یقین ہے کہ وہ انتہائی تلخ ہوتے ہیں، مگر جس شخص کو قسمت سے کوئی پتہ ہاتھ لگ جائے اور وہ اس پتے کو کهالے تو اسے حیات ابدی نصیب ہوجاتی ہے۔

اس درخت کے نیچے مردان خدا سالہاسال جهولیاں پهیلائے انتظار میں بیٹهے رہتے ہیں کہ کب کوئی پتہ جهڑے اور اسکے ہاته آئے،

یہ حکایت ایک بادشاہ نے سنی اور جی میں کہا اگر اس شجر کا میوہ ملے تو کیا کہنے،

بادشاہ نے اپنے مصاحبوں اور وزیروں سے اپنی اس خواہش کا ذکر کیا ،سب نے ہاں میں ہاں ملا دی،

الغرض بادشاہ نے برصغیر میں اپنے ایک ہوشیار آدمی کو اس درخت کے پهل کےلئے روانہ کردیا ،اور وہ بےچارہ مدتوں جنگل جنگل صحرا صحرا مارا مارا پهرتا رہا ،لیکن گوہر مقصود ہاته نہ آیا جس کسی سے ایسے درخت و پهل کو پوچهتا وہ مذاق اڑاتا،کیوں دربدر خاک چهان رہے ہو،ٹهنڈے ٹهنڈے جدهر سے آئے ہو ادهر کو لوٹ جاو،

وہ آدمی تها من کا پکا ،ارادے میں خم نہ آنے دیا اور برابر کوہ و دشت کی خاک چهاٹنے لگا،جب برسہا برس گزر چکے پورے ہندوستان کے گوشے گوشے ،چپے چپے میں پهر چکا ،بقائے دوام کے شجر کا کہیں نشان نہ ملا ،تو اس قدر محنت اور تکلیف کے اکارت جانے سے اس کے رنج و غم کی کوئی انتہا نہ تهی،بدقسمتی پر آنسو بہانے لگا ،بےچارہ قاصد مایوس ہوگیا اور بصد حسرت و یاس وطن کو واپس چل پڑا،

“سچ کہتے ہیں کہ کسی کی محنت رائیگاں نہیں جاتی” چلتے چلتے اسکا گزر ایک ایسے مقام سے ہوا جہاں خدا رسیدہ بزرگ رہتے تهے،ان کے علم و فضل اور کشف و کرامات کی بڑی شہرت تهی،قاصد نے دل میں سوچا مجهے ان بزرگ کی خدمت میں جانا چاہیئے،

ممکن ہے شیخ کی نگاہ التفات سے بگڑا کام بن جائے اور مایوسی راحت میں بدل جائے،

یہ سوچ کر چشم پرآب لے کر شیخ کے پاس حاضر ہوا ،ان کی نورانی صورت دیکهتے ہی اپنے آپ پر اختیار نہ رہا ضبط کا دامن ہاته سے نکل گیا اور روتا ہوا ان کے قدموں میں جاگرا،اس قدر آنسو بہائے کے سارا بوجه ہلکا ہوگیا ،

شیخ نے اٹها کر شفقت سے گلے لگایا اور پوچها :”کیا بات ہے ؟ پریشانی کا سبب کیا ہے”.اس نے عرض کیا:”جس کام کے لئے برسوں پہلے وطن سے نکلا تها ،وہ کام نہیں ہوا اب سوچتا ہوں واپس جاکر بادشاہ کو کیا جواب دوں گا،بادشاہ نے مجهے بقائے دوام کے شجر کی تلاش میں بهیجا تها میں نے اس کی جستجو میں اس ملک کا چپہ چپہ چهان مارا مگر “ناکامی اور مایوسی کے سوا کچه نہ ہاته آیا “.

شیخ نے سن کر کہا :”سبحان اللہ ! بهائی تونے بهی سادہ لوحی کی حد کردی ،ارے اتنا وقت خواہ مخواہ ضائع کیا،تم لوگوں نے اصل بات کو نہیں سمجها ،لفظوں کو لے لیا معنی پر غور نہیں کیا ،،

وہ شجر وہ ہنر ہے،جس کا ثمر حیات جاوداں کا اثر رکهتا ہے اور اس درخت کا پتہ،معرفت خداوندی ہے،جس کو علم حاصل کرکے خدا کی معرفت مل جائے وہ زندہ جاوید ہوجاتا ہے اسے ہی دائمی زندگی کہتے ہیں “.

یہاں مولانا رومی رح نصحیت فرماتے ہیں کہ

اے عزیز ! صرف الفاظ پر غور نہ کر معنی کے اندر غوطہ لگا،صورت کے پیچهے مت بهاگ سیرت دیکه،ظاہر پر نہ جا،باطن دیکه،صفت پر نظر رکه تاکہ تجهے ذات کی طرف لےجائے،

یہ نام ہی جهگڑا کا ہے جس نے مخلوق کے اندر اختلاف کی گرہیں ڈال دی ہیں جہاں معنی پر نگاہ کی جاتی ہے وہاں اختلاف نہیں رہتا.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.