انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام: 5 قسط

نبوت کیاہے: (گزشتہ سے پیوستہ)

#سوال: انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت وعظمت تمام مخلوق سے بلندتر ہوتی ہے۔ وجہ بتادیجئے؟

#جواب: نبوت اکتسابی نہیں بلکہ وہبی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مخلوق میں سے منتخب فرماتاہے۔ وہ گناہوں سے پاک ہوتےہیں۔ اس لئے انبیاء کرام علیہم السلام ہر لحاظ سے تمام مخلوق میں ممتاز ہوتےہیں۔ وہ ظاہری اور باطنی اعمال پاکیزہ کے جامع ہوتےتھے۔ علامہ نسفی نے لکھاہے کہ وہ ظاہری اعمال اور باطنی فکر کے حامل تھے۔ امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام قوت علمیہ اور قوت عملیہ دونوں میں کامل واکمل ہوتے ہیں۔ اور الله کی معرفت میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہوتا اور اس کی اطاعت میں بھی ان کی کوئی ہمسری نہیں کرسکتا۔ مولانا شاہ اسماعیل شہید لکھتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت کے معنی یہ ہیں کہ ان کے اقوال وافعال، عبادات، عادات، معاملات ومقامات، اخلاق واحوال، غرضیکہ جس چیز کا بھی ان سے تعلق ہے، اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے نفس اور شیطان اور خطا ونسیان کی مداخلت سے محفوظ فرماتاہے۔ اور حفاظت کرنے والے فرشتے ان پر متعین فرماتاہے۔ ملاعلی قاریؒ عصمت انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے بارےمیں کہتےہیں کہ یہ الله کی طرف سے ایک لطف ہوتاہے جو معصوم کو اختیار کے باقی رکھتےہیں بھلائی پر آمادہ کرتاہے اور برائی سے روکتا ہے۔ علامہ خفا جی کہتےہیں کہ اہل سنت کا مسلک یہ ہےکہ انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کبیرہ اور صغیرہ دونوں گناہوں سے پاک ہوتےہیں۔ اور یہی جمہور کا مسلک ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ فرماتےہیں کہ انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) تمام کے تمام صغائر، کبائر اور کفر وفواحش سے معصوم اور پاک ہوتےہیں۔ (تفسیر کبیر، تفسیر مدارک، منصب امامت، شرح فقہ اکبر، نسیم الریاض)

#سوال: قرآن مجید نے انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کےلئے بعض مقامات پر امام کا لفظ استعمال کیاہے۔ جیسے سورة بقرہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کےلیے۔ بتائیے مفسرین ومؤرخین نے امام خصوصاً انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) کی امامت کے بارےمیں کیا کہاہے؟

#جواب: علامہ نسفی کہتےہیں کہ امام نام ہے اسکا جس کی تابعداری (پیروی) کی جائے۔ علامہ ابوبکر جصاص رازی لکھتے ہیں کہ,, امامت کے نام کا وہی حقدار ہے جس کے امور دین میں اتباع اور پیروی کرنا ضروری اور لازمی ہو۔،، پس انبیاء(کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام) (اس لحاظ سے) امامت کے اعلی مرتبہ پر فائر ہوتےہیں۔ امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں کہ,, امام نام ہے اس شخص کا جس کی اقتداء اور پیروی کی جائے۔،، محققین فرماتےہیں یہاں امام سے مراد نبی ہے۔ (تفسیر مدارک، احکام القرآن، تفسیر کبیر)

#سوال: نبیوں اور رسولوں کو معجزے عطا کئے گئے۔ معجزے سے کیا مراد ہے؟

#جواب: کسی شے کی ماہیت کو بدل دینا شریعت کی اصطلاح میں معجزہ کہلاتا ہے۔ اس کے لیے علماء نے دو شرائط بتائی ہیں۔ پہلی یہ کہ تبدیلی حقیقت میں واقع ہو محض شعبدہ بازی یا نظر بندی نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ تبدیلی کرنے والا صالح ہو اور الله کی طرف سے نبوت کا دعویدار ہو۔ جادوگر یا شعبدہ باز اور جھوٹا نبی نہ ہو۔ (المفردات، النبوات، احکام القرآن)۔

جاری قسط نمبر 6

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.